কম কার্বনের আগামীর জন্য সবুজ শক্তি
এড়াতে ক্লিক করুন

شمسی نظام میں بیٹری کی کارکردگی صرف 85 فیصد رہتی ہے، جبکہ ہائی وولٹیج سسٹمز 96 فیصد تک کارکردگی حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ فرق سالانہ بجلی کے بل میں 15 سے 20 فیصد تک کمی لا سکتا ہے۔ ہائی وولٹیج لیتھیم بیٹریاں عموماً 400 سے 800 وولٹ کے درمیان کام کرتی ہیں، جبکہ روایتی لیڈ ایسڈ یا کم وولٹیج لیتھیم بیٹریاں صرف 12 سے 48 وولٹ پر چلتی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، ہائی وولٹیج سسٹمز میں پاور ڈینسٹی 150 واٹ آور فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ روایتی لیڈ ایسڈ بیٹریوں میں یہ صرف 30-40 واٹ آور فی کلوگرام رہتی ہے۔
وہ کم کرنٹ پر زیادہ پاور منتقل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کیبلز پتلی ہوتی ہیں، تھرمل نقصانات کم ہوتے ہیں، اور مجموعی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری (NREL) کی تحقیق کے مطابق، ہائی وولٹیج سسٹمز میں توانائی کی منتقلی کی کارکردگی 98. 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
لگتے ہیں، جبکہ جدید ہائی وولٹیج لیتھیم بیٹریاں صرف 2 سے 3 گھنٹے میں 80 فیصد تک چارج ہو جاتی ہیں۔ یہ خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہے جہاں بجلی کی قیمتیں دن کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوتی ہیں۔
بیٹریوں سے 30-40 فیصد زیادہ ہوتی ہے، لیکن ان کی عمر 10-15 سال ہوتی ہے جبکہ لیڈ ایسڈ بیٹریاں صرف 3-5 سال چلتی ہیں۔ بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (IRENA) کے اعداد و شمار کے مطابق، لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمت 2010 سے 2023 تک 90 فیصد کم ہوئی ہے — 1,100 ڈالر فی کلو واٹ آور سے صرف 139 ڈالر تک۔
ایون پوائنٹ (جہاں سرمایہ کاری واپس آ جاتی ہے) 5 سے 7 سال کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ روایتی سسٹمز میں یہ 8 سے 10 سال تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہائی وولٹیج ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری درمیانی مدت میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے۔
سسٹمز مثالی ہیں کیونکہ وہ کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، DLXN کے رہائشی ESS سسٹمز صرف 0. 5 مربع میٹر جگہ میں 15 کلو واٹ آور توانائی ذخیرہ کر سکتے ہیں، جبکہ روایتی بیٹریوں کے لیے 2-3 مربع میٹر درکار ہوتا ہے۔
وولٹیج سسٹمز کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ بلومبرگ نیو انرجی فنانس (BNEF) کے مطابق، 2025 تک عالمی سطح پر 450 گیگا واٹ آور نئی بیٹری اسٹوریج صلاحیت شامل کی جائے گی، جس میں سے 80 فیصد ہائی وولٹیج لیتھیم سسٹمز پر مشتمل ہوگی۔
کے زیادہ گرم ہونے کا خطرہ) ہے۔ تاہم، جدید بیٹری مینجمنٹ سسٹمز (BMS) اس خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتے ہیں۔ SEIA کی 2024 رپورٹ کے مطابق، نئے سسٹمز میں 99. 99 فیصد حفاظتی شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔
کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030 تک سالم سٹیٹ بیٹریوں کی توانائی کثافت 500 واٹ آور فی کلوگرام تک پہنچ جائے گی، جو موجودہ لیتھیم آئن سے تین گنا زیادہ ہے۔
اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں، تو ہائی وولٹیج لیتھیم بیٹری واضح طور پر بہتر انتخاب ہے — بشرطیکہ آپ کا بجٹ ابتدائی طور پر 30-40 فیصد اضافی خرچ برداشت کر سکے۔ طویل مدتی میں، یہ سرمایہ کاری خود کو کئی گنا واپس کرتی ہے۔ DLXN کے سولر پینلز کے ساتھ ہم آہنگ، ہماری ہائی وولٹیج لیتھیم بیٹریاں اور کمرشل انڈسٹریل ESS سسٹمز آپ کو زیادہ سے زیادہ توانائی کی آزادی فراہم کرتے ہیں۔ ہماری ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے، ہمارے سولر ٹیکنالوجی پیج پر ملیں۔
Latest from DLXN Energy